ابنا: اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق دفتر نے جمعرات کے روز " گھروں کی تباہی اور غرب اردن سے فلسطینیوں کی جبریہ مہاجرت " کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار گيارہ میں غرب اردن میں فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے اسرائیلی اقدامات کے نتیجہ میں تقریبا" گيارہ سو فلسطینی بے گھر ہوگئے جن میں پچاس فی صد بچے شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق دو ہزار دس کی نسبت گزشتہ سال فلسطینیوں کے تباہ کئے جانے والے گھروں کی تعداد میں اسی فی صد اضافہ ہوا۔گزشتہ سال فلسطینیوں سے متعلق اسرائيلیوں کے ہاتھوں تباہ کی جانے والی عمارتوں کی تعداد چھ سو بائيس ہے جن میں کئي اسکول اور مساجد بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں رواں سال میں مزید ہزاروں فلسطینیوں کے بے گھر ہوجانے کے بارے میں خـردار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق دفتر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے رو سے شہریوں کی جبریہ مہاجرت اور ان کے زمین و مکانات وغیرہ کو تباہ کرنا ممنوع ہے اور یہ کہ فلسطینیوں کے مکانات وغیرہ کی تباہی کو روکا جائے اور ان کے جائز حقوق پورے کئے جائيں۔
صہبونی ریاست نے اپنی نسل پرستانہ پالیسیوں کے تحت ہمیشہ فلسطینیوں کی آبادی میں اضافہ کو روکنے اور ان کی نسل کو ختم کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔فلسطینیوں کا قتل عام ، ان کو ان کے وطن سے باہر نکالنا اور ان کی آبادی کی شرح کم کرنے سمیت اپنے ناپاک عزائم پر عمل درآمد کرنے کی غرض سے فلسطینیوں کو بدترین اقتصادی صورت سے کردینا فلسطینیوں کے خلاف صہبونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا صرف ایک حصہ ہے۔
صہبونی ریاست نے مقبوضہ فلسطین میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی غرض سے اپنے غاصبانہ اور ناپاک وجود کے آغاز سے ہی فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی پالیسی کو اپنے ایجنڈے میں شامل رکھا ہے جو دسیوں لاکھ فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کا سبب بنا ہے۔مختلف ممالک میں پناہ گزیں پچپن لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کی موجود گي ، جو عالمی سطح پر بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد شمار ہوتی ہے ، فلسیطینوں کے سلسلہ میں پیدا کئے گئے صہبونی ریاست کے المیہ کی سنگينی کی غماز ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ غاصب صہبونی ریاست بڑی ڈھٹائي کے ساتھ اقوام متحدہ کی قرارداد ایک سو چورانوے ، تین سو دو اور پانچ سو بارہ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔
ان قراردادوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے ان کے حق اور ان کو تاوان ادا کئے جانے پر تاکید کی گئي ہے۔مغربی حکومتوں نے بھی ، خاص طور سے امریکہ نے جو صہبونی ریاست کے حامیوں میں شامل ہے ، صہبونی ریاست کا ساتھ دیتے ہوئے فلسطینیوں کے وطن واپسی کے حق کو پامال کرنے پر مبنی کئي منصوبے پیش کئے ہیں۔ان منصوبوں میں فلسطینیوں کو ان ممالک میں مستقل سکونت دینے کے مشترکہ منصوبے بھی شامل ہیں جن ممالک میں وہ پناہ گزیں ہیں۔یہ اقدامات فلسطینیوں کے حقوق زیادہ سے زیادہ پامال کئے جانے کی صہبونی ریاست اور امریکہ کی مشترکہ سازشوں کے غماز ہیں۔
بحران فلسطین سے متعلق حالات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ صہبونی ریاست نہ صرف فلسطینی آوارہ وطنوں کے حقوق پورے نہیں ہونے دے رہی ہے بلکہ فلسطینی علاقوں پر وحشیانہ حملے جاری رکھ کر اور فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے اقدامات سے فلسطینوں کو بے گھر کرنے کے عمل میں اس غاصب حکومت نے عملا" شدت پیدا کردی ہے۔یہ امر آوارہ وطن فلسطینیوں کی تعداد میں ، خاص طور سے حالیہ برسوں میں ، اضافہ کا سبب بنا ہے اور عالمی برادری کی طرف سے صہبونی ریاست کے خلاف کوئي ٹھوس اقدام نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ غاصب حکومت اپنے انسانیت مخالف اقدامات جاری رکھنے کے سلسلے میں گستاخ تر ہوگئي ہے. ....../169